دور حاضر میں دینی مدارس میں طلباء کی تعداد کثیر ہوچکی ہے جو کہ ایک اچھی بات ہے لیکن جب ایک بچہ حافظ قرآن عالم دین بن جاتا ہے تو اپنا معاشی بوجھ اٹھانے کے لیے اس کے پاس کوئی ہنر نہیں ہوتا جس باعث وہ ایک محدود آمدن میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتا ہے وسائل کی کمی مسجد کی کم تنخواہ کم تجربہ اور مستقل ڈیوٹی کی وجہ سے ایک عالم دین ساتھ کوئی کاروبار کرنے سے بھی محروم رہ جاتا ہےیوں دین اسلام جس میں آزادی کو سب سے زیادہ ترجیح دی گئی ہےاس کا محافظ معاشی طور پر غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے
کہیں مسجد کمیٹی کے ڈر سے حق بیان کرنے پر کمپرومائز کیا جاتا ہے تو کہیں کسی وڈیرے کی چند روپوں کے لیے چاپلوسی کی جاتی ہے
ہم جانتے ہیں کہ مدارس چلانے کے لیے بہت سا پیسہ درکار ہےفقط دعاوں سے مدرسے نہیں چلتے مدرسے وسائل سے چلتے ہیں لیکن کیا ہی اچھی بات ہوجائے کہ ایک عالم دین یا ایک پورا مدرسہ ہی معاشی طور پر خود مختار ہوجائے
یہ دور انٹرنیٹ کا دور ہے جہاں کاروبار آنلائن منتقل ہوتے جارہے ہیں سابقہ دور کے علماء کے پاس یہ موقع میسر نہیں تھا
لیکن آج کے طالب علم اور عالم دین کے پاس یہ موقع پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے
آج مسجد کے حجرے میں بیٹھ کر لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کے ذریعے آنلائن حلال بزنس کرکے ایک معقول آمدن کمائی جاسکتی ہے جس سے علماء کرام اور امام مسجد کے معاشی مسائل حل ہوسکتے ہے آنلائن پڑھایا جاسکتا ہےپروڈیکٹس بیچی جاسکتی ہیں سروسز دی جاسکتی ہیں ڈیجیٹل اثاثے اور پروڈیکٹس بنا کر ان سےلاکھوں روپے کی آمدن کی جاسکتی ہے
اور یہ کوئی خواب نہیں نظر دوڑائیں
اپنے ارد گرد دیکھیں بہت سے لوگ آنلائن بزنس کرتے نظر آئیں گے جن میں میٹرک فیل لوگ تک شامل ہیں کیونکہ کاروبار کے لیے بہت زیادہ تعلیمی قابلیت کے بجائے مستقل مزاجی اور تجربہ ضروری ہوتا ہے
سو اگر آپ چاہتے ہیں کہ مدرسہ کی تعلیم کے ساتھ ساتھ معاشی طور پر خود مختاری حاصل کرلیں
تو ہمارے اس پلیٹ فارم کے ساتھ منسلک ہوجائیں کیونکہ ہم سیکھانے جارہے ہیں آنلائن بزنس وہ بھی آسان اردو زبان میں جسے ایک مدرسہ کا طالب علم بھی سمجھ سکے گا
کیونکہ ہم مدرسہ سے پڑھ کر ڈیجٹیل سکلز سیکھ کر اب طلباء و علماء کو یہ تمام آنلائن ہنر سیکھانے جارہے ہیں
کیونکہ ہمارا مقصد ہے
معاشی طور پر خودمختار علماء
ابھی سکرین پر موجود ہمارے وٹس ایپ نمبر پر رابطہ کریں اور ہمارے ساتھ اس بابرکت مشن میں شامل ہوجائیں
03203531807

