تنظیم المدارس اہل سنت کے نام پیغام


 السلام علیکم ایک ضروری پیغام اور عرض ہے

میں نے آٹھ سالہ درس نظامی مکمل کرلی ہے تقریبا تمام اسناد میں ممتاز مع الشرف ہوں  اس سال دورہ حدیث شریف مکمل کیا ہے  مجھے ڈیجیٹل مارکیٹنگ آتی ہے اس کے ساتھ سروسز دیتا ہوں ڈیجیٹل فیلڈ کی میرا تو نظام چل رہا ہے لیکن وہ بچے جنہوں نے میرے ساتھ درس نظامی کیا وہ بچارے پریشان ہیں اور بہت سارے جامعات کے طلبا پریشان ہیں کیونکہ مساجد کی قلت ہے مدراس خود کفیل ہیں ایسے میں کوئی باہر مزدوری کرنے جارہا ہے

 تو کوئی کسی دکان پر کام کررہا ہے  اگر اس صورتحال کو بہتر نا کیا گیا تو مزید حالات خراب ہوں گے میں خود ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو خود مولوی ہیں کہتے ہیں درس نظامی مت کرو ان کے اپنے بچے انہوں نے مدرسوں میں داخل نہیں کروائے وجہ ناظمین ذلیل الگ کرتے ہیں اور تنخواہ بھی بہت کم ہے 

مٹریل ازم کا دور ہے مولوی کے گھر والے بھی اب صبر شکر سے رہنے والے نہیں اگر ہیں بھی تو بل اخراجات راشن اتنے ہوچکے ہیں کہ لوگ مجبوری میں فیلڈ چھوڑنے پر آچکے ہیں 30 30 سال پڑھانے والے مدرسین بھی مایوس نظر آتے ہیں کہ انہوں نے ساری جوانی جس مدرسے میں گزار دی اس مدرسے کے ناظمین کے پاس تو گاڑیاں ہیں مگر ان اساتذہ کے پاس گھر بھی نہیں ہے ان کے بچے بھی تو پوچھتے ہوں گے نا ان کی بچیوں کی شادیاں نہیں ہوتیں سادگی کتنی کچھ کریں سہولتیں اس قدر ہوچکی ہیں کہ و لازم و ملزوم ہیں بجلی گیس پانی کے بل بچوں کی فیس دودھ راشن سو قسم کے مسائل ہیں آج کے درس نظامی کرنے والے طلباء جب اپنے اساتذہ کی اجڑی ہوئی حالت دیکھتے ہیں تو تین سال سے زیادہ پڑھتے ہیں یا پھر خطابت میں جاتے ہیں نعت خوانی شروع کرکے جو کام کررہےہیں دین کا بیڑا غرق کرکے رکھ دیا ہے

کوئی نقیب بن رہا ہے تو کوئی خطیب ٹکے کا علم نہیں 

اور جو صاحب علم ہیں وہ اچھل کود نہیں کرسکتے گلے نہیں پھاڑ سکتے سو ان کو کوئی سنتا نہیں

لہذا میری تنظیم المدارس کی انتظامیہ سے گزارش ہے خدارا اب ان بچوں کے مستقبل کا کچھ سوچیں پچھلی علماء کی نسل معاشی طور پر خود مختار نہیں تھی اس لیے دین کا یہ حال ہوگیا کہ مسجد کمیٹی  کے محتاج نا دین بیان کرسکتے ہیں نا سیاست کرسکتے ہیں نا کاروبار آتا ہے

پھر لوگوں کی جیبوں کی طرف دیکھتے ہیں

مدرسے کے لیے چندہ دیتا کوئی نہیں اب لوگ مولوی لفظ سے نفرت کرتے ہیں سوشل میڈیا پر اتنی نفرت دی جارہی ہے  کہ لوگ لعن طعن کررہے ہیں اوپر سے پچیس پچیس ہزا  ر روپے لے کر اپنی عزت خود پامال کرلی گئی ہے اور وہ کیوں نا لیتے ان کے پاس کچھ آپشن ہی نہیں تھا نا لینے کے سوا وسائل ہی نہیں تھے

سو میری گزارش بس اتنی ہے کہ تعلیمی سیکشن بنائے جائیں  درس نظامی آٹھ سالہ کورس کے علاوہ بھی کورسز تشکیل دیے جاییں جو عام لوگ کرنا سعادت سمجھیں 

جس سے لوگوں میں اخلاقیات آئیں

اور درس نظامی کا مکمل کورس خاص لوگوں کو ہی کروایا جائے تاکہ انہیں پر مولوی کااطلاق ہواور باقی کورسز یا مکمل کورس کے ساتھ ساتھ ہنر بھی سیکھائے جائیں

جس میں سرفہرست آنلائن بزنس ہے جس میں سروسز دینا شامل ہے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کا قیام ہر مدرسے میں لازم رکھیں جہاں ناظمین گاڑیاں لے سکتے ہیں وہاں اچھی کمپیوٹر لیب اور لائبرری بھی قیام میں لائی جائے گاڑی بھی ہونی چاہیئے لیکن سب کے پاس ہو

میں سمجھتا ہوں اس فیلڈ میں اتنا سکوپ ہے صرف اگر بچے بڑھانے شروع کیے جائیں آنلائن ایجوکیشن دی جائے  سروسز دی جائیں فری لاسننگ کی اچھا کونٹنٹ کرییٹ کیا جائے جیسے پہلے دور میں کتابیں لکھتے تھے مصنفین

آج ویڈیو فارم میں کونٹنٹ دیکھا جارہا ہے لہذا میری گزارش ہے اس کو سمجھیں بچوں کو کمپیوٹر سکلز جامعہ میں سیکھائیں 

ایک کی ایک آنلائن پوری مارکیٹ ہے جہاں گھر آفس مسجد کے کمرے میں بیٹھ کر کام کیا جاسکتا ہے تاکہ بغیر تنخواہ کے عالم نماز اور جمعہ پڑھائے دیگر سرگرمیاں کرے جس سے نوجوان اس کی طرف مائل ہوں

پیسہ کمائے پاس سے خرچہ کرے

یا مسجد والی تنخواہ سے نوجوانوں کو متوجہ کرنے کے لیے معاملات کرسکے نوجوان درس نظامی پڑھے جوانوں سے متاثر ہوں

ماں باپ فخر سے کہہ سکیں بچہ دین بھی پڑھ چکا ہے اور مدرسے نے اسے کمانے کے قابل بھی بنادیا ہے

تاکہ ہمارے پاس کامیابی کی مثالوں کی سٹوریز ہوں  جو مدرسوں میں ہوں

نا کہ وہ اساتذہ جو پریشان پریشان رہتے ہوں کہ پوری نہیں پڑ رہی 

اور انہیں دیکھ کر بچے ڈی مویٹیویٹ ہوں

بچے وہ بچے نہیں رہے یہ زی جنریشن ہے یہ بندے کا منہ دیکھ کر سمجھ جاتی ہے اس کو کیا غم ہے  اور یہ مستقبل کے بارے میں سوچتے ہیں اور جو نہیں سوچتے آٹھ سال پڑھ  کر جیسے ہی باہر نکلتے ہیں

ان کے پاوں سے زمین نکل جاتی ہے کیونکہ ساری زمہ داری ان پر ہے

ماں باپ امید سے راہ تک رہے ہیں بچہ اب کما کر دے گا شادی تو وہ کر ہی نہیں سکتا دس بارہ سال پڑھ کر والدین پر بوجھ بن کر اب جب والدین کی خدمت کا وقت آیے گا وہ اگر شادی کرلے گا تو بیوی کو بھی ذلیل ہی کرے گا

اگر نہیں کرے گا تو تیس سال تک پہنچ جائے گا

مدرسے میں پڑھانے والے کئی اساتذہ ہیں جو شادی نہیں کر پارہے ہنس کر امام شافعی کا قول پیش کردیتے ہیں ان کی عمریں تیس سے زیادہ ہوگئیں فارغ ہوئے تھے تو پچیس کے تھے


خیر اب ایک مزید چیز آچکی ہے جو کہ آئی ٹی فیلڈ ہے جس سے پیسہ کمایا جاسکتا ہے سو پلیز اس پر سیریس ہوکر کام کریں مدرسے کے ناظمین  پڑھنے کے بعد فاضل کا مدرسے میں آنا تک پسند نہیں کرتے کیونکہ وہ اس کے نام پر جتنا اکھٹا کرسکتے تھے کرچکے اب اگر وہ خود جامعہ کو کچھ دے گا توہی اس کی عزت ہوگی

یہ حالات اکثر جامعات کے ہیں 

ہم اپنے جامعہ میں اساتذہ کی زیر نگرانی ایسے پروجیکٹس کررہے ہیں اور کئی بچوں کو میں نے کام سیکھا کر لگادیا ہے اور اس سال باقاعدہ جامعہ میں پیریڈ لگے گا کمپیوٹر کا 

کیونکہ اس کے بغیر گزارہ نہیں ہے 

میں چاہتا ہوں اس کو تنظیمی سطح پر کریں  اور ہرمدرسے میں اس کو ضروری ٹہرائیں کیونکہ اگر یہ ہنر یا کوئی اور ہنر بچوں کو نا دیا گیا تو آئندہ سالوں میں کوئی درس نظامی کی طرف نہیں آئے گا

حتی کی مولوی بھی اپنے بچے نہیں ڈال رہے نا ہی ڈالیں گے ایسا نہیں ہے کہ سکول پڑھنے سے نوکریاں مل رہی ہیں وہان اس سے بھی بدتر حالات ہیں مگر ایک مولوی ایک معاشرے کا سربراہ ہوتا ہے اس کو معاشی طور پر آزاد ہونا چاہیے

جو معاشی طور پر خود مختار اور خو د کفیل ہیں وہ بہت اچھا کام کررہے ہیں 

جب طالب علم مدرسہ سے پڑھائی کے ساتھ ساتھ کمانا بھی سیکھ کر کمائے گا تو اپنی آمدن کچھ نا کچھ جامعہ دے گا 

اور جامعہ کے مسائل بھی حل ہوں گے

اگرچہ وہ بعد میں کسی مسجد کا امام نا بن سکے مگر وہ ایک سپانسر بن سکے گا

اور شارٹ کورسز کے ساتھ کمپیوٹر کورسز کروانے سے مدرسہ کے ساتھ جوان منسلک ہوں گے جنہوں نے میٹرک کیا ہوا ہوگا اگر وہ یہاں سے کمانا سیکھ لیتے ہیں تو ان کی زندگی کا مسئلہ حل

اور وہ درس نظامی کرسکتے ہیں بندہ ان کا ذہن بنا دیتا ہے کہ ساتھ درس نظامی کرو اب اللہ نے تمہیں رزق دے دیا ہے کئی بچے ایسے کررہے ہیں جنہیں میں نے کام پر لگایا اور اب وہ مدرسہ بھی پڑھ رہے ہیں 

میرے پاس تقریبا 20 سےزائد ڈیجیٹل سکلز ہیں جن پر عبور حاصل ہے اور باقی بھی مشکل نہیں ہیں جیسے ایک مکمل عالم کے لیے ترجمہ کرنا مشکل نہیں عربی کا اسی طرح میرے لیے آئی ٹی فیلڈ مشکل نہیں اور میں درس نظامی کرنے والے بچوں کے ذہنی لیول پر جاکر ان کو یہ سب سمجھا اور سیکھا سکتا ہوں آسان زبان میں 

ماوس کی بورڈ پکڑنے سے لے کی ویب ڈوپلنگ اور تمام سکلز 

اور یہ کررہا ہوں پرائمری پاس تھا میٹرک بعد میں اکیڈمی سے کی ہے جب میں کمپیوٹر سیکھنے جاتا تھا  مجھے ناظمین ذلیل کرتے تھے  کہ تمہیں اللہ پر یقین نہیں دین تمہیں پیسے اس سے زیادہ دے گا اور آج وہی مجھ سے  دین والے بچوں کو کمپیوٹر  پڑھوا رہے ہیں 

اور آپ کو بھی یہ کرنا پڑے گا سو ابھی وقت ہے آغاز کیجئے 

مجھ سے کئی اچھے عالم آپ کو مل جائیں گے جو مجھ سے اچھی سکلز سیکھاسکتے ہیں 

بس آپ اس شعبہ کو رکھیں 

میں اپنا کام کررہا ہوں لاکھ سے زیادہ آمدن ہے اور بغیر تنخواہ کے جامعہ میں کمپیوٹر کلاسز لگائی ہیں گزرشتہ سال 

اپنی کمپنیز رجسٹرڈ ہیں

اچھا کام کررہا ہوں بندے رکھے ہیں ان سے کام لیتا ہوں وہ بھی خوش ہیں دین بھی سیکھتے ہیں اپنا اکیڈمی سسٹم بھی ہے وہان بچے بھی ہیں ان کی تربیت بھی ہورہی ہے اچھے ٹیچرز بھی ہیں انہیں بچوں کو سیکھا کر مدرسے منتقل کردوں گا  کہ کمانا سیکھ لیا ہے اب دین بھی پڑھو

یہ میں ایک شہر میں ہوں

بہت سارے شہروں میں یہ ہوسکتا ہے پورے ملک میں سب مسالک کے لوگ یہ کررہے ہیں جماعت اسلامی نے پورے پورے سکول بنالیے دعوت اسلامی کس لیول کا کام کررہی ہے

جتنی مسجدیں ہیں اتنے مولوی کافی ہیں باقی اگر مولوی نا بھی بنے مدرسے سے فارغ التحصیل بزنس مین بھی بن گئے تو ہوں گے تو مدرسے اور دین والے ہی 

اس لیے میں نے یہ عرضی پیش کی میں نہیں جانتا یہ کون پڑھے گا کدھر جائے گی بس لکھ دیا ہے میرا کام پہنچانا تھا باقی میں اپنے حصے کا کام کروں گا آئندہ سال بھی  جتنا مجھ سے ہوسکا 

میری زندگی کا مقصد ہے ہنرمند خود مختار علماء